جمعہ، 27 ستمبر، 2013

گھر میں لیمن گراس اگائیے۔۔ غذا بھی، دوا بھی،شفا بھی


 یہ ایک خوبصورت پودا ہے جسے آپ آسانی اپنے گھریلو باغیچہ یا گملہ میں لگا سکتے ہیں اور سالہا سال اس سے فوائد حاصل کر سکتے ہیں،جھاڑی نما اس پودے کا اصل وطن چین اور اس کے گردو نواح کے ممالک ہیں بحرحل اب پاکستان کی ہر نرسری سے آسانی سے دستیاب ہے اور اگر آپ اس کے فوائد سے آگاہ ہو جائیں تو اس کو ہر حال میں خریدنا چاہیں گے مگر اللہ کا شکر ہے کہ یہ ہمارے" مطلوبہ میعار" پر بھی پورا اترتا ہے یعنی انتہائی سستا  ۔میرا خیال ہے گملہ میں لگا ایک فٹ سے بڑا پودا آپ کو سو روپے سے بھی کم میں مل جائے گا،بعد میں بھی اس کی دیکھ بال انتہائی آسان ہے ،عام پودوں کی ہی طرح اس کو پانی دیا جاسکتا ہے اور اہم اور بڑی بات یہ ہے اس کی خوشبو سے مچھر بھی قریب نہیں آتے۔

سوموار، 23 ستمبر، 2013

گھریلو پودوں کے ذریعے قدرتی طریقہ سےمچھراور ڈینگی سے نجات حاصل کریں


جوں جوں ہم فطرت سے دور ہوتے جارہے ہیں ہم طرح طرح کے مسائل میں گھرتے جارہے ہیں،ہمارے بزرگوں کے زمانہ میں ہر بیماری اور مسئلہ کا حل قدرتی غذاؤں اورگھریلوٹوٹکوں کے ذریعے کیا جاتا تھا۔ کچن میں استعمال ہونے والے مصالحہ جات ،پودے اور ان کے بیج ہر بیماری کی شفا ثابت ہوتے تھے۔ آج کیمیکل کا استعمال ہماری زندگیوں میں اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اس کے مضر اثرات نے ہماری نوجوان نسل کو طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا کر رکھا ہے۔ نباتات قدرت کی طرف سے انسانی ذات کیلئے ایک بہترین تحفہ ہے۔زمانہ قدیم سے یہ حقیقت سبھی جانتے ہیں کہ قدرت نے نیم کے درخت میں بہت سے طبی، زراعتی اور ماحولیاتی فوائد رکھے ہیں اور انہی فوائد کو جدید تحقیق نے بھی ثابت کیا ہے، نیم کا درخت مچھروں کو بھگانے کا بھی ایک قدرتی ذریعہ ہے۔نیم کے درخت کے ارد گرد مچھر نہیں ہوتے اور اسی وجہ سے ڈینگی کے خاتمے کیلئے اسے انتہائی کارآمد تصور کیا جاتا ہے۔کیڑے مکوڑوں سے نجات کیلئے

بدھ، 18 ستمبر، 2013

آئیے آج نئے پودے لگائیں


بلاگ کی پسندیدگی کا بے حد شکریہ،دوستوں نے میری توقعات سے زیادہ رسپانس دیا ہے ،صرف ایک ہفتہ میں ایک ہزار سے زیادہ لوگوں نے بلاگ کا وزٹ کیا ہے جو میرے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں،آپ احباب کا تعاون رہا تو ہم انشا ء اللہ پاکستان کو اس کے پرچم کی طرح سرسبز اور اس کے نام کی طرح پاک یعنی آلودگی سے پاک وطن بنانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے،ہماری معمولی سی محنت ہمارے گھروں کو خوبصورت اور آلودگی سے پاک بنا سکتی ہے۔

امید ہے منی پلانٹ آپ نے گملوں میں لگا لیا ہو گا،آج میں آپ کو مزیدتین پودوں کو تعارف کرواؤں گا،میری کوشش ہے کہ انتہائی سستے پودوں کا تعارف کرواؤں تاکہ ایک تو ہر کوئی شوق پورا کر سکے دوسرے اگر خدانخوستہ کوئی پودا ضائع بھی ہوتا ہے تو کسی کو یہ ملال نہ ہو کہ ہزاروں روپے ضائع ہو گئے۔

آج کے پہلے پودے کا نام ہے سدا بہار

ہفتہ، 14 ستمبر، 2013

آیئے آج پہلا پودا لگائیں

الحمد اللہ دوست احباب نے اس بلاگ کو بہت پسند کیا اور میری حوصلہ افزائی کی ہے جس پر میں تمام احباب کا مشکور ہوں، انشاء اللہ اب یہ سلسلہ جاری رہے گا اور وہ احباب جو باغبانی کا شوق رکھتے ہیں اور اپنے گھروں کو پودوں اور پھولوں سے سجانا چاہتے ہیں مگر مکمل معلومات نہ ہونے کے سبب اس طرف مائل نہ ہو سکے، میں کوشش کروں گا کہ انتہائی آسان طریقہ سے ان کی راہنمائی کر سکوں اور گاہے بگاہے انہیں گھریلو پودوں کا تعارف کر واسکوں تاکہ وہ آسانی سے اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔بعض لوگ نرسریوں میں جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سب سے مہنگے پودے دے دیں اور ہزاروں روپے خرچ کر دیتے ہیں مگر وہ پودے ان کی لاپرواہی کی وجہ سے جلد ضائع ہو جاتے ہیں تو جلد ان کا شوق بھی اچاٹ ہو جاتا ہے۔ میرے خیال میں پودے سستے یا مہنگے نہیں ہوتے بلکہ آپ کی توجہ اور محبت ان کو مہنگا بنا دیتی ہے۔ اس لئے کبھی مہنگے پودے خریدنے کے چکر میں نہ پڑیں، ایک بات بتاؤں گملے میں محض گھاس بھی لگا ہو تو خوبصورت لگتا ہے اس لئے جو مل جائے اس کو گملہ میں لگا دیں۔

منگل، 10 ستمبر، 2013

اپنے گھروں کو قدرتی حسن سے سجائیں

بچپن سے پودوں سے جنون کی حد تک پیار رہاہے اس لئے گھریلوپودوں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنے کے لئے ہمیشہ سے تحریری مواد کی تلاش میں رہے،پوری تلاش بسیار کے بعد فیروز سنز کی ایک کتاب کے علاوہ پاکستان بھر سے کوئی معلومات حاصل نہیں ہوسکی،کبھی کبھی مختلف اخبارات کے سنڈے ایڈیشنز میں کوئی نہ کوئی مضمون انگریزی سے ترجمہ شدہ ملا بھی تو اس کی معلومات ہمارے مقامی مزاج کے مطابق نہ ملیں،مختلف زرعی تحقیقاتی اداروں نے بھی کچھ پمفلٹ نما مواد تیار تو کیا مگر عام آدمی اس سے کم ہی فائدہ اٹھا سکا۔ انٹر نیٹ آنے کے میں نے بہت تلاش بسیارکی مگر خجل خواری کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔