اتوار، 15 دسمبر، 2013

گھروں کو پھولوں سے سجانے کا موسم آگیا !!!!

پاکستان میں موم سرما کے آغاز سے ہی پھولوں کا موسم شروع ہو جاتا ہے اور مئی تک رنگا رنگ پھول اپنی بہار دکھاتے ہیں اور دلوں کو لبھاتے ہیں ، کچھ عرصہ قبل پھول صرف باغوں یا سرکاری دفاتر تک ہی محدود تھے مگر اب اسلام آباد کے بعد اب لاہور سمیت پنجاب کے سبھی بڑے شہروں میں میونسپل ایڈمنسٹریشن نے شہروں کی خوبصورتی اور اور ماحول کو آلودگی کے صاف رکھنے کے لئے سڑکوں کے کناروں اور درمیانی ڈیوائڈرز پر پھول پودے لگانے شروع کر دیئے ہیں جو ایک انتہائی عمدہ روایت ہے ، صبح سویرے اپنے کام کاج پر جانے والوں کی

منگل، 3 دسمبر، 2013

گھریلو پودوں کے لئے کھاد اپنے گھر پر تیار کیجیئے

اکثر دوستوں کو شکوہ ہے کہ جب پودے نرسری سے خریدیں تو بڑے لش پش گرین اور خوبصورت ہوتے ہیں مگر گھرآ کر چند ہی دنوں میں اپنا رنگ و روپ کھونا شروع کر دیتے ہیں۔ نرسریوں  میں تو انہیں ترو تازہ رکھنے کے لئے مختلف قسم کی کھادوں اور کیمیکلز کا استعمال کیا  جاتا ہے مگر آپ گھر پر بھی بآ سانی قدرتی کھا د تیار کرکے اپنے پودوں کی بڑھوتی اور خوبصورتی میں اضافہ کر سکتے ہیں کیونکہ پانی کے ساتھ ساتھ چند اور اجزاء بھی ان کی صحت کے لئے ضروری ہیں جو آپ باآسانی گھر پر بھی تیار کرسکتے ہیں۔ گھر میں روزانہ انواع قسم کو کوڑا کرکٹ جمع ہوتا ہے

بدھ، 13 نومبر، 2013

گھر میں ٹماٹر اُگائیے اور مہنگائی کو شکست دیجیے

وجہ فصلوں کی تباہی ہو یا ذخیرہ اندوزوں کی ہوس،سچ یہ ہے کہ سبزیوں کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے نے نچلے و متوسط طبقوں کو ازحد متاثر کیا۔ظاہر ہے،دس پندرہ ہزار روپے کمانے والا 200روپے کلو ٹماٹراور 100روپے کلو آلو خرید کر نہیں کھا سکتا۔ عام سبزیوں کی قیمتیں دن بہ دن بڑھ رہی ہیں۔اس مہنگائی کا ایک توڑ یہ ہے کہ اپنے گھرکم از کم روزمرہ استعمال کی سبزیاں مثلاً ٹماٹر،آلو،پیاز،گوبھی،دھنیا،پودینہ اگا لی جائیں۔ان کا اگانا مشکل نہیں اور نہ ہی وسیع زمین کی ضرورت ہے،بس یہ

اتوار، 3 نومبر، 2013

گھر کی فضا کو آلودگی سے پاک رکھنے والے چند پودے(2)

اس سلسلہ کی پہلی تحریر کا آپ مطالعہ کر چکے ہیں ۔ میں ان احباب کا بھی مشکور ہوں جو اس سلسلہ میں میری راہنمائی فرماتے ہیں اور وہ احباب بھی  جو ان تحریروں کو پسند کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے ان کی پودوں کے بارے میں دلچسپی اور شوق میں  اضافہ ہو رہا ہے بلکہ چند احباب نے تو  باقاعدہ  باغبانی شروع کر دی ہے اور کچھ دوستوں نے اس موضوع پر لکھنا بھی شروع کر دیا ہے جو ایک مثبت  پیش رفت ہے۔ یہ وہ عام سے پودے ہیں جو ہمیں آسانی سے  مل جاتے ہیں مگر ان پر تحقیق کرنے والوں نے ان کی ایسی بے شمار خوبیاں ثابت کی ہیں کہ  قدرت کی اس عظیم صناعی پر عقل دنگ  رہ جاتی ہے۔ خاص طور پر یہ پودے گھریلو فضا کو آلودگی سے پاک رکھنے میں  خصوصی کر دار ادا کرتے ہیں۔آج میں ان مزید پودوں کا آپ سے تعارف کروا ہوں جنہیں آپ اپنے گھر میں گملوں اور کیاریوں میں لگا کر  اپنے گھر کی خوبصورتی میں اضافہ کےساتھ ساتھ اپنے گھر کی فضا کو بھی صاف رکھ سکتے ہیں

منگل، 29 اکتوبر، 2013

گھر کی فضا کو آلودگی سے پاک رکھنے والے چند پودے(1)

آج  میں آپ سے جن نئے پودوں کا تعارف کروا رہا ہوں ان پر  کی گئی تحقیق میں  ثابت ہو اہے کہ یہ پودے گھر کی فضا کو صاف رکھے کے لئے ایک ائر  فلٹر کا کام کرتے ہیں اور مغربی ممالک میں خاص طور پر کو ان پودوں کو گھروں   ،دفاتر ،ہسپتالوں اورہوٹلوں کے  کمروں میں رکھا جاتا ہے تاکہ خوبصورتی کے ساتھ ساتھ آلودگی سے پاک ہوا بھی مسیر آتی رہے۔ ان ممالک میں یہ پودے مہنگے ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی دیکھ بال بھی ایک بڑا مسلہ ہے مگر اس کے باوجود انہیں رکھا جاتا ہے ۔ ہماری خوش قسمتی ہے  کہ ہمیں یہ پودے بہت آسانی سے اور سستے داموں دستیاب ہیں  مگر ہم انتہائی مہنگے ایئر فریشنر تو خرید رہے ہیں قدرت کی اس لاجواب نعمت سے استفادہ نہں  حاصل کر رہے۔ یہ پودے گھروں میں استعمال ہونے والے کئی قسم کے کیمیکلز میں استعمال ہونے والے مواد  کو تلف کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو آپ کے
سانس کے ذریعے  آپ کے جسم میں داخل ہو کر آپ کی صحت کو متاثر کرتے ہیں

جمعرات، 10 اکتوبر، 2013

اداسی اور پریشانی کا علاج اب پھل اور سبزی کھا کر


اداسی اور پریشانی کا علاج اب پھل اور سبزی کھا کر بھی کیا جاسکتا ہے ،پھل اورسبزیوں کا روزمرہ استعمال نہ صرف جسمانی طور پر تندرست رکھتا ہے بلکہ بہت زیادہ پھل اور سبزی کھانے سے دماغ بھی آسودہ اور مطمئن رہتا ہے۔ سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ زیادہ پھل اورسبزیاں کھانے والے لوگ مستقبل کےحوالے سے زیادہ پر امید ہوتے ہیں۔

بدھ، 2 اکتوبر، 2013

کچن گارڈننگ ، ایک صحت بخش مشغلہ

گھریلو پیمانے پر سبزیوں کی کاشت کا مشغلہ نہ صرف انسانی صحت کیلئے اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ یہ انسان کے جسم اور دماغ کو توانا رکھنے میں بھی اہم کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔ گھر کے باغیچے میں کاشت کی گئی سبزیاں سپرے، کیمیکل اور دیگر غلاظتوں سے پاک ہوتی ہیں ۔ دنیا بھر میں آج کل بازاری سبزیوں کی خرید سے بچنے اور اپنی صحت کو بہترین حالت میں رکھنے کیلئے کچن گارڈننگ  رواج پا رہا ہے۔گھر میں سبزیاں اگانے سے مہنگائی سے پریشان اور کم آمدنی والے افراد کو نہ صرف بہتر اور تازہ سبزیاں میسر آئیں گی بلکہ گھر کا بجٹ بنانے میں بھی آسانی ہوگی ۔

جمعہ، 27 ستمبر، 2013

گھر میں لیمن گراس اگائیے۔۔ غذا بھی، دوا بھی،شفا بھی


 یہ ایک خوبصورت پودا ہے جسے آپ آسانی اپنے گھریلو باغیچہ یا گملہ میں لگا سکتے ہیں اور سالہا سال اس سے فوائد حاصل کر سکتے ہیں،جھاڑی نما اس پودے کا اصل وطن چین اور اس کے گردو نواح کے ممالک ہیں بحرحل اب پاکستان کی ہر نرسری سے آسانی سے دستیاب ہے اور اگر آپ اس کے فوائد سے آگاہ ہو جائیں تو اس کو ہر حال میں خریدنا چاہیں گے مگر اللہ کا شکر ہے کہ یہ ہمارے" مطلوبہ میعار" پر بھی پورا اترتا ہے یعنی انتہائی سستا  ۔میرا خیال ہے گملہ میں لگا ایک فٹ سے بڑا پودا آپ کو سو روپے سے بھی کم میں مل جائے گا،بعد میں بھی اس کی دیکھ بال انتہائی آسان ہے ،عام پودوں کی ہی طرح اس کو پانی دیا جاسکتا ہے اور اہم اور بڑی بات یہ ہے اس کی خوشبو سے مچھر بھی قریب نہیں آتے۔

سوموار، 23 ستمبر، 2013

گھریلو پودوں کے ذریعے قدرتی طریقہ سےمچھراور ڈینگی سے نجات حاصل کریں


جوں جوں ہم فطرت سے دور ہوتے جارہے ہیں ہم طرح طرح کے مسائل میں گھرتے جارہے ہیں،ہمارے بزرگوں کے زمانہ میں ہر بیماری اور مسئلہ کا حل قدرتی غذاؤں اورگھریلوٹوٹکوں کے ذریعے کیا جاتا تھا۔ کچن میں استعمال ہونے والے مصالحہ جات ،پودے اور ان کے بیج ہر بیماری کی شفا ثابت ہوتے تھے۔ آج کیمیکل کا استعمال ہماری زندگیوں میں اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اس کے مضر اثرات نے ہماری نوجوان نسل کو طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا کر رکھا ہے۔ نباتات قدرت کی طرف سے انسانی ذات کیلئے ایک بہترین تحفہ ہے۔زمانہ قدیم سے یہ حقیقت سبھی جانتے ہیں کہ قدرت نے نیم کے درخت میں بہت سے طبی، زراعتی اور ماحولیاتی فوائد رکھے ہیں اور انہی فوائد کو جدید تحقیق نے بھی ثابت کیا ہے، نیم کا درخت مچھروں کو بھگانے کا بھی ایک قدرتی ذریعہ ہے۔نیم کے درخت کے ارد گرد مچھر نہیں ہوتے اور اسی وجہ سے ڈینگی کے خاتمے کیلئے اسے انتہائی کارآمد تصور کیا جاتا ہے۔کیڑے مکوڑوں سے نجات کیلئے

بدھ، 18 ستمبر، 2013

آئیے آج نئے پودے لگائیں


بلاگ کی پسندیدگی کا بے حد شکریہ،دوستوں نے میری توقعات سے زیادہ رسپانس دیا ہے ،صرف ایک ہفتہ میں ایک ہزار سے زیادہ لوگوں نے بلاگ کا وزٹ کیا ہے جو میرے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں،آپ احباب کا تعاون رہا تو ہم انشا ء اللہ پاکستان کو اس کے پرچم کی طرح سرسبز اور اس کے نام کی طرح پاک یعنی آلودگی سے پاک وطن بنانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے،ہماری معمولی سی محنت ہمارے گھروں کو خوبصورت اور آلودگی سے پاک بنا سکتی ہے۔

امید ہے منی پلانٹ آپ نے گملوں میں لگا لیا ہو گا،آج میں آپ کو مزیدتین پودوں کو تعارف کرواؤں گا،میری کوشش ہے کہ انتہائی سستے پودوں کا تعارف کرواؤں تاکہ ایک تو ہر کوئی شوق پورا کر سکے دوسرے اگر خدانخوستہ کوئی پودا ضائع بھی ہوتا ہے تو کسی کو یہ ملال نہ ہو کہ ہزاروں روپے ضائع ہو گئے۔

آج کے پہلے پودے کا نام ہے سدا بہار

ہفتہ، 14 ستمبر، 2013

آیئے آج پہلا پودا لگائیں

الحمد اللہ دوست احباب نے اس بلاگ کو بہت پسند کیا اور میری حوصلہ افزائی کی ہے جس پر میں تمام احباب کا مشکور ہوں، انشاء اللہ اب یہ سلسلہ جاری رہے گا اور وہ احباب جو باغبانی کا شوق رکھتے ہیں اور اپنے گھروں کو پودوں اور پھولوں سے سجانا چاہتے ہیں مگر مکمل معلومات نہ ہونے کے سبب اس طرف مائل نہ ہو سکے، میں کوشش کروں گا کہ انتہائی آسان طریقہ سے ان کی راہنمائی کر سکوں اور گاہے بگاہے انہیں گھریلو پودوں کا تعارف کر واسکوں تاکہ وہ آسانی سے اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔بعض لوگ نرسریوں میں جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سب سے مہنگے پودے دے دیں اور ہزاروں روپے خرچ کر دیتے ہیں مگر وہ پودے ان کی لاپرواہی کی وجہ سے جلد ضائع ہو جاتے ہیں تو جلد ان کا شوق بھی اچاٹ ہو جاتا ہے۔ میرے خیال میں پودے سستے یا مہنگے نہیں ہوتے بلکہ آپ کی توجہ اور محبت ان کو مہنگا بنا دیتی ہے۔ اس لئے کبھی مہنگے پودے خریدنے کے چکر میں نہ پڑیں، ایک بات بتاؤں گملے میں محض گھاس بھی لگا ہو تو خوبصورت لگتا ہے اس لئے جو مل جائے اس کو گملہ میں لگا دیں۔

منگل، 10 ستمبر، 2013

اپنے گھروں کو قدرتی حسن سے سجائیں

بچپن سے پودوں سے جنون کی حد تک پیار رہاہے اس لئے گھریلوپودوں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنے کے لئے ہمیشہ سے تحریری مواد کی تلاش میں رہے،پوری تلاش بسیار کے بعد فیروز سنز کی ایک کتاب کے علاوہ پاکستان بھر سے کوئی معلومات حاصل نہیں ہوسکی،کبھی کبھی مختلف اخبارات کے سنڈے ایڈیشنز میں کوئی نہ کوئی مضمون انگریزی سے ترجمہ شدہ ملا بھی تو اس کی معلومات ہمارے مقامی مزاج کے مطابق نہ ملیں،مختلف زرعی تحقیقاتی اداروں نے بھی کچھ پمفلٹ نما مواد تیار تو کیا مگر عام آدمی اس سے کم ہی فائدہ اٹھا سکا۔ انٹر نیٹ آنے کے میں نے بہت تلاش بسیارکی مگر خجل خواری کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔