اتوار، 16 مارچ، 2014

کچن گارڈننگ ،موسم گرما کی سبزیوں کی کاشت

 مارچ موسم گرما کی سبزیوں کی کاشت کا مہینہ ہے بلکہ اکثر جگہوں پر کاشت ہو بھی چکی ہے،کچن گارڈننگ کے لئے ابھی بھی آپ اپنے گھر میں موسم گرما کی سبزیوں کی کاشت کر سکتے ہیں۔پنجاب کی حکومت نے کچن گارڈننگ کے فروغ کے لئے کافی کام کیا ہے ، گرمیوں اور سردیوں کی سبزیوں کی کاشت کے لئے بیجوں کا پیکٹ زراعت کے دفاتر سے صرف پچاس روپے میں مل جاتا ہے بلکہ گزشتہ برس اسے سکولوں میں مفت بھی تقسیم کروایا گیا تھا۔ایک پیکٹ پانچ مرلہ کے قطعہ اراضی کے لئے کافی ہے یعنی اگر آ پ کے گھر  کے آس پاس  صرف پانچ مرلہ  یا ا س سے کم  زمین کا کوئی ٹکڑا ہے تو صرف مناسب دیکھ بال کرکے
صرف پچاس روپے میں پورے سیزن کی سبزیاں حاصل کرسکتے ہیں لیکن اگر آپ کے پاس زمین نہیں ہے تو کوئی بات نہیں آپ گملوں ، خالی ٹین اور پلاسٹک  اور تھرماپورکے ڈبوں  یا پولی تھین بیگز میں بھی باآسانی ان سبزیوں کی کاشت کر سکتے ہیں۔

 میں نے آج ہی یہ پیکٹ حاصل کیا ہے۔اس پیکٹ میں کریلہ ، بھنڈی توری،ٹینڈا، گھیا توری،ٹینڈی ،ککڑی اور کدو کے بیج ہیں۔ اس کے علاوہ بینگن، کھیرا،ٹماٹر ، دھنیا ،پودینہ،سلاد بھی اگایا جا سکتا ہے۔
چند احتیاطی تدابیر:
سبزیوں کی کاشت کے لئے ایسی جگہ کا انتخاب کیا جائے جہاں کم از کم آٹھ گھنٹے دھوپ آتی ہو۔
کچن گارڈننگ میں آب پاشی اہم کردارادا کرتی ہے۔ اگر پانی کی رسد مناسب نہ ہو تو پودوں کی بڑھوتری متاثر ہوتی ہے۔ لہذا پودوں کو پانی کی رسدتو جاتی ہے مگر اکثر گھروں میں پودوں کی بڑھوتری خاصی کم ہوتی ہے اور پودے مرجھانا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس کی چند وجوہات ہیں جن میں ناموزوں پانی، پانی کی زیادتی یا کمی، پانی بروقت نہ دینا وغیرہ شامل ہیں۔ پانی کی کمی یا زیادتی کو تو آسانی سے حل کیا جاسکتا ہے مگر ناموزوں پانی کا حل خاصا مشکل اور مہنگا کام ہے۔ عمومی طور پر پودوں کو عمودی ایک انچ پانی فی ہفتہ کی ضرورت ہوتی ہے مگر حالات  اورموسم کے پیش نظراس وقفہ کو کم یا زیادہ بھی کیا جاسکتا ہے۔
 گملوں میں لگائے جانے والے پودوں کی تھوڑی سی احتیاط ضروری ہے، ان کی نمی بھی نہ سوکھنے دیں مگرپانی کی بھی کسی طور زیادتی نہ ہونے دیں۔ بارش ہونے کی صورت میں آبپاشی کا وقفہ ایک سے دو ہفتہ تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ اگر گملوں میں سبزی کاشت کرنی ہو تو فالتو پانی کے نکاس کیلئے ان میں سوراخ رکھنے ضرور ی ہیں۔
 بیلوں والی سبزیوں کو  دیواروں یا سہاروں کی مدد سے اوپر چڑھائیں تاکہ روشنی او ہوا کا مناسب گزر ہو جس سے  پودوں میںبیماریاں بھی کم حملہ کرتی ہیں اور اور پیداوار بھی بہتر ہوتی ہے۔
 بیجوں کو ہموار سطح پر لگانے کی بجائے کھیلیوں پر کاشت کریں کیونکہ ہموار سطح پر کاشت کی گئی سبزیوں پر بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

مزید معلومات کے لئے اس لنک سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے
یا ناظم ا دارہ تحقیقات سبزیات،ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ ، جھنگ روڈ ،فیصل آباد
یا directorvegetable@yahoo.com
سے بھی معلومات لی جا سکتی ہیں
نوٹ:گھریلو باغبانی بلاگ کے قارئین مزیدمعلومات کے لئے بلاگ کے فیس بک پیج کو جوائن کریں

7 تبصرے:

DuFFeR - ڈفر نے لکھا ہے کہ

انکل جی ذرا یہ جدول والی تصویر صاف سی ریزولوشن میں تو پیسٹیں

Mustafa Malik نے لکھا ہے کہ

یہ جو اوپر لنک ہے اس میں صاف ہے وہاں سے چیک کر لیں

محمد اسلم فہیم نے لکھا ہے کہ

ملک جی اگر سبزی گھر میں لگا لیں گے تو علاقے کے"ملیاروں" کی سبزیاں کیا فیصل آبد والے خریدیں گے :)

Mustafa Malik نے لکھا ہے کہ

اسلم فہیم بھائی ، سب کا رازق اللہ پاک ہے ، اس لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ،

گمنام نے لکھا ہے کہ

جن کا تعلق کراچی سے ہے اور وہاں پر ذیادہ تر رہائش فلیٹوں کی ہے اور وہاں کا بڑا مسلئہ جگہ کا اور دوسرا مسلئہ دھوپ کا تو وہ لوگ کیا کریں؟؟؟؟؟؟؟

Mustafa Malik نے لکھا ہے کہ

گملوں ، لکڑی کے کریٹوں اور بلاسٹک کی بالٹیوں میں لوگ پودے اگا رہے ہیں ، آپ بالکونیوں میں گملے رکھ کر ابتدا کریں

Rizwan Khan نے لکھا ہے کہ

Malik sahab is Topic ki last line mujhe samajh nai ai. plz is ko asan ilfaz main .
bataiye ga. ap ki nawasish ho gi
بیجوں کو ہموار سطح پر لگانے کی بجائے کھیلیوں پر کاشت کریں کیونکہ ہموار سطح پر کاشت کی گئی سبزیوں پر بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔