جمعہ، 27 ستمبر، 2013

گھر میں لیمن گراس اگائیے۔۔ غذا بھی، دوا بھی،شفا بھی


 یہ ایک خوبصورت پودا ہے جسے آپ آسانی اپنے گھریلو باغیچہ یا گملہ میں لگا سکتے ہیں اور سالہا سال اس سے فوائد حاصل کر سکتے ہیں،جھاڑی نما اس پودے کا اصل وطن چین اور اس کے گردو نواح کے ممالک ہیں بحرحل اب پاکستان کی ہر نرسری سے آسانی سے دستیاب ہے اور اگر آپ اس کے فوائد سے آگاہ ہو جائیں تو اس کو ہر حال میں خریدنا چاہیں گے مگر اللہ کا شکر ہے کہ یہ ہمارے" مطلوبہ میعار" پر بھی پورا اترتا ہے یعنی انتہائی سستا  ۔میرا خیال ہے گملہ میں لگا ایک فٹ سے بڑا پودا آپ کو سو روپے سے بھی کم میں مل جائے گا،بعد میں بھی اس کی دیکھ بال انتہائی آسان ہے ،عام پودوں کی ہی طرح اس کو پانی دیا جاسکتا ہے اور اہم اور بڑی بات یہ ہے اس کی خوشبو سے مچھر بھی قریب نہیں آتے۔

 طبی نقطہ نظر سے لیمن گراس کے بے شمار فائدے سامنے آ رہے ہیں۔ سرطان جیسے مرض میں بھی مفید ہے۔ آپ بھی اسے آزمائیے۔ چاولوں میں ڈال کر دیکھیے۔ اس کی چائے بنا کر خود بھی پئیں اور گھر والوں کو بھی دیں۔ دو تین چھوٹی الائچیاں ڈال کر پانی پکائیں،لیمن گراس ڈالیں اور پھر چینی ڈال کر پئیں تو آپ خود حیران ہوں گی۔ جسم کی تھکن دور ہو جائے گی، کھانا ہضم ہوگا۔ منہ میں اس کا ذائقہ کافی دیر تک رہے گا۔لیمن گراس کا قہوہ چڑچڑاپن ، دماغ پر بوجھ، تنائو، پریشانی دور کرتا ہے۔ پیٹ سے گیس کم کرنے اور مزید آنتوں  میں گیس کی تشکیل کو روکنے کے لئے مدد کرتا ہے۔
 ہائی بلڈ پریشر کو کم کرنے کیلئے لیمن گراس کا جوس استعمال کیاجاتا ہے۔کیل مہاسوں کوکم کرنے میں ایک ریفریشر کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کے جوس سے دوران خون حیض کے مسائل سے نمٹنے میں مدد ملتی ہے۔ جسم میں ضرورت سے زیادہ چربی سے نمٹنے میں مدد ملتی ہے ،جسم کی بدبو  مختلف بیماریوں کے علاج میں مدد کر سکتے ہیں اورگرمی کو کم کرنے میں مفید ہے، جوس پیشاب کی نالی میں انفیکشن اور زخموں کے علاج میں مفید ہے،ہمارے جسم کے دیگر اعضا کو صاف اور زہریلا مادہ کو ختم کر سکتے ہیں۔خواتین کی صحت جلداورجسم کی  بدبو جیسی بیماریوں کے علاج میں مدد ملتی ہے،چہرے کے کیل مہاسے ختم ہوجاتے ہیں چہرہ خوبصورت شاداب ہوجا تا ہے۔
 لیمن گراس کا تیل گرم اثر دینے کے لئے پورے جسم میں مساج کیا جاسکتا ہے، اس کاتیل جوڑوں کا درد اور پٹھوں کے درد کودور کرنے میں مدد کر سکتے ہیں ،جوڑوں کے درد اور پٹھوں تکلیف سے  درد میں مدد ملتی ہے،سوزش اور درد اور تکلیف کم ہو جاتی ہے
لیمن گراس کی چائے پینے سے حیض درد اور متلی کم کرنے میں  مدد ملتی ہے۔لیمن گراس عام طور پر باورچی خانے میں مچھروں سے چھٹکارا حاصل کرنیکاخوشبودار پودا ہے،لیمن گراس عام طور پر مصالحہ کے طور کھانوں میں استعمال کرنے کا ایک خوشبودار پودا ہے
لیمن گراس کے پتے  میں خاص مہک ہوتی ہے  آپ اس کی چائے بنا  سکتے ہیں۔ ایک چمچہ بھر پتے ابلتے پانی میں ڈال کر دم بھی دے سکتے ہیں۔لیمن گراس کا سوپ بھی  بنایا جا سکتا ہے۔ یخنی بناتے وقت چند پتے ڈالنے سے مزا دوچند ہو جاتا ہے
  لیمن گراس کے پتے کھایئے تھکن ہومعدے کی خرابی ہو تو اس کی چائے بنا کر پیجئے طبیعت صحیح ہو جائے گی اس میں چینی کے بجائے شہد ملا کر پینے سے فلو بخار میں فائدہ ہوتا ہے کھانسی کم ہو جاتی ہے۔ چاولوں کو دم دیتے وقت لیمن گراس کے پانچ چھ پتے ڈالنے سے جب ڈھکنا ہٹتا ہے تو خوشبو پھیل جاتی ہے

نوٹ:گھریلو باغبانی بلاگ کے قارئین مزیدمعلومات کے لئے بلاگ کے فیس بک پیج کو جوائن کریں


26 تبصرے:

Naeemullah Khan نے لکھا ہے کہ

جتنے مزے کا لیمن گراس ہے اُتنے ہی مزے کی آپ کی تحریر ہے۔ ہم لوگ تو اس کی چائے بنا کر پیا کرتے تھے۔ میرے گھر میں بھی ایک ہرا بھرا گملا تھا مگر وہ تو میرے "مور" مزے لے لے کر کھا گئے، شاید اُن کو بھی اس کے فوائد معلوم ہوگئے ہیں۔ اب اُن سے کسی خفیہ جگہ پھر دوسرا گملا رکھنے کا سوچ رہا ہوں۔

Mustafa Malik نے لکھا ہے کہ

جی شکریہ نعیم بھائی ۔۔۔۔ آپ کا حکم ہوا ہم نے پوسٹ لکھ دی

MAniFani نے لکھا ہے کہ

یعنی لیمن گراس لگانا ہی پڑے گا۔

چائے پینے کو جی کر گیا

Ch. Zafar Iqbal Sandho نے لکھا ہے کہ

واقعی مصطفےٰ بھائی اب تو لیمن گراس لگانا ہی پڑے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہے مفید معلومات مل رہی ہیں آپ کے بلاگ سے اور اب تو روزنامہ دنیا میں بھی آپ کے بلاگ کی تحریر چھپ رہی ہیں ۔۔۔۔ بہت مبارک ہو

عامر شہزاد نے لکھا ہے کہ

بہت خوب جناب، شکریہ

محمد اسلم فہیم نے لکھا ہے کہ

ملک صاحب آپ نے تو کمال کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت عرصہ پہلے گھر میں لگایا تھا نئی تعمیرات کی بدولت ضائع ہو گیا آپ کی تحریر پڑھ کے پھر لگانے کو جی چاہ رہا ہے

Mustafa Malik نے لکھا ہے کہ

محمد اسلم فہیم بھائی اگر آپ اپنے گھر میں لیمن گراس سمیت مزید پودے لگا لیں گے تو میرا تحریر لکھنے کا مقصد تو پورا ہو جائے گا ، پسندیدگی کا شکریہ

an.joseph نے لکھا ہے کہ

السلام علیکم
جناب بہت خوب لکھا ہے
اس کا جوس بنانے کے لیے تو میرا خیال ہے پورا پودا ہی قربان کرنا پڑے گا۔ اگر پتوں سے بنتا ہے؟ یا کوئی اور طریقہ ہے؟
ایک فرمائش ہے
کہ اپنے شہر کے زمینی پانی سے جو پودے سیراب ہوسکتےہیں ان پر بھی کوئی تحریر یا تحریریں لکھ دیں۔

Mustafa Malik نے لکھا ہے کہ
یہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔
Mustafa Malik نے لکھا ہے کہ

جی ہاں جوس تو زیادہ پتوں سے ہی بنے گا اور سبھی پودے زمینی پانی سے سیراب ہو سکتے ہیں میں اپے گھر میں بھی زمینی پانی سے ہی سیراب کرتا ہوں ۔۔ پسندیدگی کا شکریہ

فخرنوید نے لکھا ہے کہ

بہت اچھی کاوش ہے۔ جناب مصطفی ملک صاحب

Mustafa Malik نے لکھا ہے کہ

شکریہ فخرنوید ، آپ کی حوصلہ افزائی میرے لئے باعث فخر ہے

فخرنوید نے لکھا ہے کہ

محترم ایک زمرہ ایسا بھی بنائیں جس میں آپ وہ مواد ڈالیں جو آپ سے متعلقہ اخبارات اور ڈائیجسٹ میں چھپتا ہے۔

Mustafa Malik نے لکھا ہے کہ

جی انشا ء اللہ ، آپ کی یاد دہانی کا شکریہ

Aamir Mohammad نے لکھا ہے کہ

بہترین کاوش۔

Naeem Akram نے لکھا ہے کہ

میں نے حال ہی میں آپکی پوسٹ سے متاثر ہو کر کچھ پودے خریدے ہیں۔ لیمن گراس کا چھوٹا پودا شاید چالیس روپے کا مِلا، ایک گملے میں تین لگائے۔ اسکے علاوہ تلسی، اور نیاز بو کے بھی دو پودے لئے۔ بیگم کے اسرار پر ایک رات کی رانی خریدنی پڑی، ویسے میں نے بڑا سمجھایا کہ بھلی لوگ جوان جہان بندہ گھر میں ہو تو اس قسم کے پودے نہیں رکھتے لیکن خیر محترمہ مانتی کب ہیں۔

Mustafa Malik نے لکھا ہے کہ

نعیم اکرم بھائی ، بہت شکریہ ، آپ نے آغاز کر دیا ۔ ویسے تلسی اور نیازبو کے بعد بھابھی جی کا رات کی رانی خریدنے کا اصرار ضروری تھا کیونکہ تلسی اور نیاز بو کے نام بھی رات کی رانی سے ملتے جلتے ہی ہیں ۔۔۔۔۔۔ خوش رہیئے ، محبت کا شکریہ

faisal shah نے لکھا ہے کہ

بہت شکریہ معلومات شیئر کرنے کا۔ بہت اچھا مضمون تھا۔ پھول پودوں اور سبزے سے محبت ہمارے بھی دل میں بچپن سے ہے لیکن کیا کریں جناب دو کمروں کے گھر میں کیا کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے یہ شوق دل میں ہی رہا۔ بہرحال ہمارا ایک ماہنامہ جہان صحت کراچی سے شایع ہوتا ہے۔ میں نے دسمبر کی اشاعت میں آپ کا یہ مضمون شایع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر آپ اجازت دیں گے تو اس بلاگ کے پودوں سے متعلق اور بھی مضامین بھی شایع کریں گے۔
اس کے علاوہ آپ سے کچھ معلومات چاہییے ، اگر آپ دے سکیں تو بڑی مہربانی ہو گی۔۔ آج کل ہم کراچی میں آرگینک سبزیاں، اناج اور پھل وغیرہ کے اسٹؤرز ڈھونڈ رہے ہیں، لیکن کوئی کلیو نہیں مل رہا۔ ہیں تو ضرور کیوں کہ کافی عرصہ پہلے ایک موقر میگزین میں آرٹیکل اور انٹرویو پڑھا تھا ایک صاحب کا جو کراچی کے مضافات میں وسیع پیمانے پر یہ کام کر رہے تھے۔ لیکن اب جب ضرورت ہے تو ان کا کچھ اتا پتا نہیں مل رہا۔ دراصل ہمارے ہاں آج کل کراچی میں سبزیاں انتہائی خراب آ رہی ہیں۔ ایک دن کے بعد ہی پھپھوندی لگ جاتی ہے اور سڑ جاتی ہیں۔ ذائقہ بھی کچھ نہیں رہا۔ دراصل ہمارے ہاں ملیر کے گندے صنعتی زہریلے پانی میں سبزیاں اگائی جا رہی ہیں اور وہی مارکیٹ میں بیچی جا رہی ہیں۔ اور پھر اگر گندے پانی کی سبزیاں نہ بھی ہوں تو صحت کے نقطہ نظر سے ماہرین کہتے ہیں کہ مصنوعی کھاد اور کیڑے مار ادویات کے استعمال سے خوراک انتہائی مضر صحت ہو جاتی ہے۔ امید ہے رہنمائی فرمائیں گے۔
محمد فیصل شہزاد

معروف احمد نے لکھا ہے کہ

لیمن گراس میرا پسندیدہ پودا ہے۔ میں اس کا قہوہ نہایت شوق سے پیتا ہوں۔ معدے کی اصلاح کے لیے اسے انتہائی مفید پایا ہے۔ شادی یا پارٹی میں شمولیت کے بعد قہوہ ضرور پیا ہوں۔جتنا بھی کھانا کھایا ہو ، منٹوں میں ہضم کر دیتا ہے۔ لیکن اس کا زیادہ استعمال جسم میں خشکی کا باعث بنتا ہے۔

Forex Traders نے لکھا ہے کہ

السلام علیکم ملک صاحب، آپ کا مضمون پڑھا بہت مزا آیا میں بھی اپنے گھر میں لیمن گراس کے پودے لگا لیئے ہیں۔ آپ نے لکھا ہے کہ جوڑوں کے درد اور پٹھوں کی تکلیف میں اس کا تیل مفید ہے۔ تو اس کا تیل کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے؟

Mustafa Malik نے لکھا ہے کہ

میں نے تلاش کیا مگر ہمارے ہاں تو نہیں مل سکا ، چونکہ میں نے بھی ترجمہ کیا ہے ممکن ہے یورپ میں بآسانی دستیاب ہو ،اگر معلومات حاصل ہوئیں تو ضرور آپ تک پہنچاؤں گا

Usman Gilani نے لکھا ہے کہ

ملک صاحب آپ کے اس بلاگ کی وجہ سے بہت سے شائقین اپنا من ٹھار رہے ہیں اور باغبانی کر کے ثواب بھی حاصل کر رہے ہیں جس میں آپ کا بھی حصہ ہے جو آخرت میں آپ کے کام آئے گا۔ اللہ تعالی آپ کی تمام نیک خواہشات پوری کرے۔
لیمن گراس کے بار میں کچھ سوالات درج زیل ھے۔
نمبر 1۔ لیمن گراس کا پودا اگر زمین میں لگایا جائے تو کیا یہ خود بخود زمین سے پانی لے سکتا ہے میرا مطلب اگر ہم اسے پانی نہ لگائے تو کیا جنگلی جھاڑی کی طرح زندہ رہ سکتا ھے۔؟
نمبر 2۔ کیا یہ زمین میں خودبخود پھیلتا رہتا ہے؟ جیسے عرف عام میں بولی جانے والی ایک جھاڑی دیب ؟
نمبر 3۔ جس زمین پر میں لگانا چاہتا ہو اس جگہ کا زیرزمین پانی کی برق موصلیت 2900 ہے اور چکھنے میں نمکین نہیں ھے۔ میگنیشم اور غالبا" پوٹاشیم یا کیلشیم کی مقدار زیادہ ھے۔ کیا ان خصوصیا ت کا حامل پانی انھیں دیا جاسکتا ہے۔؟
رہنمائی فرمائے عین نوازش ہو گی۔

Learn for Change نے لکھا ہے کہ

جناب مصطفےٰ ملک بہت شکریہ معلومات فراہم کرنے کا لیکن میں آپکی تحریر تک اس بات کی تلاش میں نکلا تھا کہ میں جاننا چاہتا تھا کہ لیمن گراس اور دیگر سبز چائے میں کیا فرق ہے، میں دوسرے سبز چائے کا نام نہیں بتا سکتا۔ بہرحال بیان کرسکتا ہوں مثال کے طور پر اگر ہم ٹیپال کمپنی کی سبز چائے خریدیں وہ لیمن گراس نہیں ہے۔ میرا سوال یہ کہ اس کے پودے کا کیا نام ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ کونسا سبز چاے فواہد کے لحاظ سے زیادہ اچھا ہے۔ شکریہ ناصرعلی سجاد تربت کیچ بلوچستان

Farooqsaeed Qureshi نے لکھا ہے کہ

ملک صاحب، آج پہلی دفعہ، آپکی تحریر پڑھ رہا ہوں، دراصل میں ہوں تو ایک زمیدار گھرانے سے، لیکن یہ کام پرزگوں نے کیا، ہم لوگ تو روزگار کی تلاش مین دینا میں ہی گم ہوگئے، اپ عمر کے اس حصہ میں ہوں جسمیں فرصت ہی فرصت ہوتی ہیں، بالکل فارغ ہوگیا ہوں، الحمدوللہ کراچی میں رہایش ہے، نیا گھر لیا ہے، اس فراغت نے غیرت دلایہ کہ کچھ کرو، تو مختلف پودے لے آیا، اور گھر میں لاکر سجا دئیے، اب شوق بھی پیدا ہوگیا ہے، جب انپر پھول کھلتے ہیں تو دل خوش ہوتا ہے، لیمن گراس کے بارے میں معلومات بہ ت دلچسپ ہیں، میں انشاء اللہ آج ہی اسے گھر لے آؤنگا۔ مجھے آپ کی دوستی بھی چائیے، اور مشورے بھی، امید ہے آپ مجھے اپنے تجربے سے مستفیض کرتے رہیں گے،،، وسلام،

Mufti Syed Hussain Ahmad نے لکھا ہے کہ

سناہے کہ لیمن گراس کے استعمال سے یڈیوں میں درد ہوتا ہے میں نے بھی چند دن استعمال کیا توگھٹنوں میں تکلیف محسوس کی اس بارے میں کیاتحقیق ہے

مصطفےٰ ملک نے لکھا ہے کہ

جی میں مسلسل کئی سال سے استعمال کر رہا ھوں ، ممکن ھے ایسا ہوتا ھو لیکن مجھے ایسا کچھ محسوس نہیں ھوا ،

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔