سوموار، 15 دسمبر، 2014

آیئے کچن گارڈننگ شروع تو کریں !


اکثر احباب پوچھتے ہیں کہ ہم بھی کچن گارڈننگ شروع کرنا چاہتے ہیں مگر سمجھ ہی نہیں آتی کیا کریں ، کچھ دوست تو کہیں نہ کہیں سے مٹی گملے اکٹھے کرتے ہیں اور کام شروع کر دیتے ہیں مگر کچھ اگتا ہی نہیں ، دلبرداشتہ ہوکر چھوڑ دیتے ہیں ،ایک بہن نے شکوہ کیا آپ صرف لکھ سکتے ہیں ، کبھی کچھ اگایا بھی ہے کہ نہیں ؟ خوشی ہوتی ہے کہ الحمد اللہ میرے چھوٹے سے کام کی وجہ سے پاکستان کے عام لوگوں میں کچن گارڈننگ کا شعور پیدا ہورہا ہے ،میں خود ابتدا میں ایسے ہی حالات کا شکار رہا ہوں ،سو اپنے تجربات کی روشنی میں کچھ مفید مشورے دینا چاہتا ہوں کہ آپ کچن گارڈننگ شروع تو کریں۔ویسے میں خود ابھی تک محترم طارق تنویر کے مشوروں کا محتاج ہوں ،انہوں نے قدم قدم پر راہنمائی فرمائی جس کی وجہ سے یہ سب کچھ لکھنے کا حوصلہ ہو سکا۔

اکثر دوست ابتدا ہی میں سارا زور لگا لیتے ہیں ،اچھا خاصا خرچہ کر لیتے ہیں ،گھر میں اگر لان ہے تو اس کو ادھیڑ کر رکھ دیا جاتا ہے ،خوبصورتی ختم اوربیگم صاحبہ کی جھڑکیاں الگ سے سننے کو ملتی ہیں اور پھر جب کوئی چیز اگتی بھی نہیں تو دل ٹوٹ جاتا ہے۔لان کی جگہ نہیں تو سارے گھر کو گملوں سے بھر دیا جاتا ہے ،چھتوں ،بالکونیوں تک گملے سجا دیئے جاتے ہیں مگر حال ویسا کا ویسا ہی رہتا ہے ۔میری اپنی رائے ہے کہ کچن گارٖڈننگ کی ابتدا بہت معمولی سے کام سے کرنی چاہیئے اور اس کو بہت آہستہ آہستہ آگے بڑھایا جائے تاکہ آپ اکتائیں بھی ناں اور آپ کا دل بھی لگا رہے ۔ پودے لگانا بذات خود ایک ایسا عمل ہے جو آپ کو دل کوخوشیوں سے بھر دیتا ہے اور ڈیپریشن کا آپ کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتا۔
میں نے پہلے بھی ایک دفعہ لکھا تھا کہ چند سال پہلے تک سبزی فروش سبز مرچ،دھنیا،سلاد کے پتے اور سبز پیاز فری دے دیتے تھے جبکہ اب علیحدہ سے اس کے لئے کم از کم سو روپیہ خرچ ہو جاتا ہے ،اگر یہ سب آپ کو اپنے گھر میں فری ملے تو آپ معقول بچت کر سکتے ہیں۔ آپ ایسا کریں صرف پانچ ساتھ گملے لے لیں ،صحن نہیں تو چھت پر رکھ لیں ،گملے نہیں تو پرانے لکڑی یا پلاسٹک کریٹ لے لیں، مٹی اور قدرتی کھاد مکس کر کے ان کو بھر دیں، مٹی آپ کو وہ چاہیئے جو نہری پانی کے کھال کی ہوتی ہے اس پنجابی میں بھل بھی کہتے ہیں ،نہ ملے تو کسی قریبی نرسری سے لے لیں،قدرتی کھاد کی تیاری کا طریقہ بھی میں اسی بلاگ میں لکھ چکا ہوں ورنہ نرسریوں سے معمولی قیمت پر تیار قدری کھاد مل جاتی ہے ، بس تین حصہ مٹی اور ایک حصہ کھاد ملا لیں،آپ کے گملے تیار ہیں۔اب ایسا کریں وہی گھر والا خشک دنیا ایک دو گملوں میں چٹکی چٹکی بکھیر دیں اور اس کے اوپر بہت ہی ہلکی سے مٹی کی تہہ بکھیر دیں، کسی شاور سے ہلکہ ہلکہ پانی دے دیں،بازار سے پودینہ کی جڑیں مل جاتی ہیں ایک دو گملوں میں وہ لگا لیں،ایک آدھ گملے میں لہسن کے جوئے بیج دیں ،کسی نرسری سے ایک دو چائنا لیموں کے پودے لے آئیں ،دو گملوں میں لگا دیں ،پچاس سے بھی کم قیمت میں ایک پودا مل جاتا ہے جلدہی اس میں لیموں لگنے شروع ہوجاتے ہیں، اگر مل سکے تو کسی گملہ میں لیمن گراس بھی لگا لیں ۔لیجئے آپ کا چھوٹا سا کچن گارڈن تیار ہے ،اللہ پر بھروسہ رکھیں
اور بقول میاں محمد بخش رحمۃاللہ علیہ
مالی دا کم پانی دینا تے بھر بھر مشکاں پاوے
مالک دا کم پھل پھول لانا ، لاوے یا نا لاوے
ایک دو ہفتوں میں ان سب گملوں میں ہریالی بھی آجائے گی،آپ کا دل بھی خوش ہوگااور جب بیگم صاحب تازہ دھنیا سے سالن پکائیں گی تو ضرور آپ کی کارکرگی کو سراہیں گی اور اس کا اگلہ فائدہ یہ بھی ہوگا کہ اب وہ باقاعدگی سے ان کو پانی بھی دیں گی اور خیال بھی رکھیں گی۔آپ ان گملوں میں میتھی،سلاد، دھنیا، پودینہ، سبز مرچ،پالک،لہسن ا گاسکتے ہیں،محترم طارق طفیل جیسے بہت سے دوستوں نے چھتوں پر اپنا شوق پورا کیا ہوا ہے۔سردیوں اور گرمیوں کی سبزیوں کی کاشت کے بارے میں بھی آپ مضامین اس بلاگ پڑھ سکتے ہیں۔
نوٹ:گھریلو باغبانی بلاگ کے قارئین مزیدمعلومات کے لئے بلاگ کے فیس بک پیج کو جوائن کریں

16 تبصرے:

Naeem Akram نے لکھا ہے کہ

آپکے بلاگ کی وجہ سے مجھے بھی کچن گارڈننگ کا شوق چڑھا، پچلے مارچ میں گائوں میں کافی کچھ لگایا پھر پنڈی چلا آیا اور گائوں والی سبزیوں کی کوئی خاص پراگرس نہیں ہوئی۔ اب ستمبر میں پالک وغیرہ گملوں میں لگائی تھی اور وہ خوب ہری بھری ہے۔ مٹر البتہ ناکام ہو گئے ہیں لیکن آلو کے دو پودے بڑے جوبن پر ہیں۔ بلاگ لکھ کر فوٹو شیئر کروں گا انشاءاللہ

ریاض شاہد نے لکھا ہے کہ

شکریہ ملک صاحب لیکن یہ بہت ابتدائی معلومات ہیں جو نیٹ پر پہلے ہی دستیاب ہیں میرے نزدیک اس میں زیادہ گہرائی میں جا کر لکھنے کی ضرورت ھے جیسے بھل مٹی ہر جگہ دستیاب نہیں ہو سکتی ۔ تو پھر کیا کیا جائے ۔ زراعت کے لحاظ سے مٹی کی کتنی اقسام ہیں ۔ اگر مٹی درست نہیں تو اسے مناسب بنایا جا سکتا ھے ۔ کہر کے موسم میں کیا احتیاطی تدابیر ہیں ۔ پودے کتنا درجہ حرارت برداشت کر سکتے ہیں ۔ میں آپ کے جذبے اور ہمت کی تعریف کرتا ہوں لیکن اچھی سبزیاں اگانا بہت مہارت اور محنت کا تقاضا کرتا ھے اگر اتنا آسان ہوتا تو اس فیلڈ پر ارائیوں کی اجارہ داری نہ ہوتی ۔

Mustafa Malik نے لکھا ہے کہ

نعیم بھائی ، شکریہ آپ نے یاد رکھا ،
ریاض شاہد بھائی ، کوشش ھے زیادہ سے زیادہ معلومات پہنچا سکوں ، بہت سے لوگوں کے لئے تو یہ معلومات بھی نئی ہیں ،آپ کا حکم سر آنکھوں پر ، انشاء اللہ مزید کوشش جاری رکھوں گا ، دعاؤں میں یاد رکھیئے گا

کوثر بیگ نے لکھا ہے کہ

بہترین مضمون

شوق کا شوق فائدہ کا فائدہ

Naeemullah Khan نے لکھا ہے کہ

مصطفی بھائی آپ کی تحاریر ہمیں ایک نئی ہمت دیتی ہیں، میں بھی اپنے ٹولز اکٹھے کررہا ہوں اور چھت پر باغبانی کے لئے بھی مناسب کنٹینرز جمع کررہا ہوں۔ انشاء اللہ میں بی شروع کرنے ہی والا ہوں اور آپ کی رہنمائی میرے لئے بہت اہم ہے۔ طارق تنویر بھائی کے آئیڈیاز اور اُن کا کام بہت متاثر کن ہے۔ کچن گارڈننگ میں اُن کی خدمات کا کوئی نعم البدل نہیں۔ اللہ آپ دونوں کو جزائے خیر دے۔ امین

Aslam Faheem نے لکھا ہے کہ

ہم نے بھی آپ کی تحریریں پڑھ پڑھ کے دو چار گملوں میں مٹر ، مولی ، پالک اور شلجم لگائے تھے دو چار دانے مٹروں لے لگے تھے اور پالک کے تو ہم نے پکوڑے بھی بنا کے کھائے ہیں

نوید احمد زبیری نے لکھا ہے کہ

خوب

حفیظ درویش نے لکھا ہے کہ

آپ کے کالم پڑھ کر انتہائی اچھا لگ رہا ہے۔ میں آج پانچ گملے خریدنے جارہا ہوں ۔ مجھے آپ کے اس مضمون سے کافی مدد ملی ہے۔ میرے پاس آٹھ مرلے کی کھلی چھت ہے۔ اس پر تو میں بہت کچھ اگا سکتا ہوں۔اب دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے۔ اگر کوئی مسئلہ ہوا تو آپ کو ضرور بتاؤں گا۔

گمنام نے لکھا ہے کہ

جناب جن کے پاس سورج کی روشنی کے لیے ایک کھڑکی ہو وہ کیا کاشت کر سکتے ہیں؟ میرے اپارٹمنٹ میں 3 کھڑکیاں ہیں بس کوئی مفید مشورہ ہو تو عنایت فرمائیں

Mustafa Malik نے لکھا ہے کہ

آپ چھوٹے گملوں میں دھنیا ، پودینہ ، سبز مرچ ، لہسن وغیرہ بو دیں اور انہیں کھڑکیوں کے پاس رکھیں ، آپ کا دل لگا رھے گا ۔۔ انشاء اللہ

سجاد ساحل نے لکھا ہے کہ

بہترین بلاگ ۔ باغبانی کے موضوع پر بلاگ لکھنے کے لیے شکریہ۔

Iqbal Hasan نے لکھا ہے کہ

بہت شکریہ جناب ۔ میں اپنے گھر میں تقریباً دس مرلے جگہ پر سبزیاں اگاتا ہوں ۔ میں پیاز اورشکر قندی اگانا چاہتا ہوں ۔ اس کا موسم اور طریق بوائی کیا ہے؟ جواب دینے کا پیشگی شکریہ ۔

Farooqsaeed Qureshi نے لکھا ہے کہ

محترم ملک صاحب، گزارش یہ ہے، کہ کراچی میں زیادہ تر لوگ پودے، بھالو ریت اور قدرتی کھاد ملا کر لگاتے ہیں، میں نے بھی ایسا ہی کیا ہوا ہے، کراچی میں بھل مٹی کم ہی دستیاب ہے، مشورہ دین ، کہ بھالو ریت باغبانی کے لئے بہتر ہے، یا پھر مٹی کا بندوبست کیا جائے۔ شکریہ۔

Rizwan Khan نے لکھا ہے کہ

Malik Sahab main Kitchen Garden ki field main abi New hon or main buht sare Vegetables k phool zaya kar chuka hon. Is ki waja mere pas kisi kisam ki koi source of Information nai hai. jo thora buht sikhta hon Net se wo Experiment kar k nakam ho jata hon. Agar ap k pas time ho ya kisi tarike se agar ap meri Help kar sakty hon Kitchen Gardening ki Basic samjhany main to Plz meri Help karen. Thankx

Rizwan Khan نے لکھا ہے کہ

Mustafa Bhai Vegetables k Podon ko Soraj ki roshni main Direct rakhna chahiye ya Sayadar jaga pe ya in k darmeyan

Rizwan Khan نے لکھا ہے کہ

Malik Sahab main Kitchen Garden ki field main abi New hon or main buht sare Vegetables k phool zaya kar chuka hon. Is ki waja mere pas kisi kisam ki koi source of Information nai hai. jo thora buht sikhta hon Net se wo Experiment kar k nakam ho jata hon. Agar ap k pas time ho ya kisi tarike se agar ap meri Help kar sakty hon Kitchen Gardening ki Basic samjhany main to Plz meri Help karen. Thankx

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔